 |
 |
ليکوال |
 |
پيغام |
 |
 |
 |
 |
 |
 |
فيروز افريدي
Moderator

غړيتوب: 07 جولائ 2007 ليکنې: 3501 ځائې: قطر
|
تقريب رونمائي درې مياشتيځه پېښور پښتو
ملګرو
ستاسو نه طمع لرم چي په دې ليکنه کښې د غلطيو نشاندهي وکړئ چې بيا مخکښې د چاپ د پاره ئې کوم اخبار ته هم واستوم.
مننه
پشاور سے چھپنے والی سہہ ماہی مجلہ ""پیخــــور""(پیشور)پشتو کا
پہلا پرچہ چھپ کر منظر عام پر اگیا ہے۔
مجلے کی تقریب رونمائی مقامی ہوٹل ،سپرنگ نائیٹ ویلج یونیورسٹی روڈ پشاور میں بروز منگل 16 فروری 2010 کو دن 3 بجے منعقد ہوئی۔
جس میں کثیر تعداد میں پشتو اور اردو کے شعراء اور ادباء نے حصہ لیا۔
اس تقریب کی صدارت اردو اخبار رونامہ ایکسپریس کے کالم نگار ،اردو اور پشتو کے نامور شاعر اور ادیب جناب سعداللہ جان برق صاحب فرما رھے تھے ،جبکہ مھمان خصوصی کی نشست پر پشاور یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر محترم ڈاکٹر پروفیسر ہارون رشید صاحب تشریف فرما تھے۔
مھمانان اعزازی کے نشستوں پر بزرگ شاعر اور ادیب مرتضی شاہین،ڈاکٹر پروفیسر اقبال نسیم خٹک اور پشتو ڈیپارٹمنٹ کے پروفیسر اسلام گوہر، صاحبان تشریف فرما تھے۔
اسکے علاوہ پریزیڈیم میں مھمانان گرامی کے ساتھ رکھی گئ نشتوں پر میزبان تنظیم پشاور پشتو ادبی جرگہ کے نگران اور پشتو ڈیپارٹمنٹ کے سنئیر ریسرچ سکالر ڈاکٹر ہدایت اللہ نعیم اور صدر و مجلہ ""پیشور "" کے چیف ایڈیٹر فیروز افریدی بھی براجمان تھے۔
تقریب کی نظامت تنظیم کے جنرل سیکریٹری اور مجلے پیشور کے ایڈیٹر محترم عارف اللہ اظھر صاحب نے کی ۔
تقریب کا باقاعدہ اغاز تنظیم مزکورہ کے سنئیر شاعر محترم ایوب سرحدی صاحب نےتلاوت کلام پاک اور نعت رسول مقبول سے کیا۔
ابتدائی کلمات مجلے کے چیف ایڈیٹر فیروز افریدی نے ادا کئے اور مھمانان گرامی کا خصوصی شکریہ بار بار ادا کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ میں دیار غیر میں گزشتہ پچیس سالوں سے مقیم ھوں اور وھاں وطن اور زبان کے حوالے سے منعقدہ ہر ایک تقریب ھاوس فل رھتی ھے لیکن یہاں وطن میں کئی ایک تقاریب میں سامعین کی قلیل تعداد دیکھ کر مایوسی ہوئی تھی ،اور یہی خوف اس پروگرام کے حوالے سے بھی دل کو لگا ہوا تھا ، لیکن اج کی تقریب ماشاللہ ھاوس فل ھے اور مجھے انتھائی خوشی اور حوصلہ افزائی ھو رہی ہے ۔
اور ھمیں امید ھے کہ مستقبل میں بھی اپ صاحبان ھماری اسی طرح حوصلہ افزائی فرماتے رھیں گے
فیروز افریدی کے بعد ڈاکٹر ہدایت اللہ نعیم نے زبان اور زبان کے حوالے سے متعلقہ امور اور تکنیکی پہلووں پر سیر حاصل گفتگو کی۔
انہوں نے اکسویں صدی میں زبانوں سے متعلق ،اج کی دور کے جدید تقاضوں اور میڈیا کے توسط سے زبانوں کی قربت ،اپس میں الفاظ کی تواصل اور تحلیل باھمی کی افادیت پر زور دیا اور اس حوالے سے درپیش مسائل کا حل تلاش کرنے میں ماہرین لسانیات کو ذمہ واری کا احساس دلایا۔
حکومتی اداروں پر کڑی تنقید کی ،اور انہیں زبان کی ترویج میں رکاوٹ کا باعث گردانا۔
انہوں نے کہا، کہ زبانوں کی ترویج یہی غیر سرکاری تنظیمیں کرتی رھتی ہے جنہیں محدود وسائیل بھی دستیاب نہیں ۔
ڈاکٹر ہدایت اللہ نعیم نے سپرینگ نائیٹ ویلج کے مالک محترم خالد ایوب جو تاجر اتحاد یونیورسٹی روڈ کے چئیرمین بھی ہیں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا جو وقتا فوقتا ادیبوں اور شاعروں کی مالی معاونت کرتا رہتا ہے او جنہوں نے اج کے پروگرام کو بھی سپانسر کیا ہے۔
اسکے بعد بزرگ پشتو شاعر سفیراللہ ناشاد نے مجلے کے حوالے سے منظوم خراج عقیدت پیش کی۔
مجلے پر تنقیدی مضامین اسلامیہ کالج یونیورسٹی پشاور کے شعبہ پشتو کے چئرمین پروفیسر اباسین یوسفزئ اور ڈاکٹر پروفیسر اقبال نسیم خٹک نے پڑھے،جس پر بعد میں صاحب صدر نے بحث سميٹھتے ھوئے چند اعتراضات کے مثبت جواب بھی دئے۔
مجلے پر روزنامہ اج کے کالم نگار اور ریڈیو پاکستان کے سابق سنئیر اہلکار محترم مشتاق شباب صاحب نے بھی گفتگو کی۔اور منتظمین اور مجلے(مجلہ) کے ادارے کو مبارکباد پیش کی۔
پشاور یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر پروفیسر ہارون رشید صاحب نے زبان کی اھمیت پر قابل قدر گفتگو کی۔اور اپنے دور میں اس حوالے سے کئے گئے اقدامات اور اس کے نتائیج پر بات کی۔
انہوں نے اس پر اشوب دور میں سیاسی او مفاہمتی عمل کو جلا بخشنے کے لئے ادبی اور صحافتی کاموں پر زور دیا اور اس کی اہمیت بیان کی۔
مہمان خصوصی نے تنظیم مزکورہ کے اس حوالے سے کئے گئے کاموں کی دل کھول کر تعریف کی۔
اخر میں صاحب صدر نے اس تقریب کی خدوخال پر سیر حاصل گفتکو کی ،اور پروگرام اور مجلے کے حوالے سے مختلف اطراف سے اٹهائے گئے سوالات کے جوابات بھی دئے۔
صاحب صدر نے زبان اور ادب کے حوالے سے دلائل دے کر سامعین تقریب سے خوب داد حاصل کی۔
صدر محفل نے منتظمین اور مجلے کے ادارے کے کاوشوں کو سراہا۔
پروگرام کے اخیر میں چند قراردادیں پیش ہوئیں اور اجمل خٹک کے لئے اجتماعی دعا کی گئ۔
تنظیم کے سنئیر نائب صدر اور مجلے کے ایڈیٹر محترم نسیم خان نسیم صاحب نے ووٹ اف تھنکس اور پروگرام کے اختتام کا اعلان کرکے مہمانوں کو خورد ونوش کے لئے ھال کے دوسرے حصے میں مدعو کیا۔
پروگرام کے منتظم اعلٰی محترم دلاور خان وقار ، رضاخان افریدی اور میر عالم خان افریدی نے تقریب کی انتظامات میں بھر پور حصہ لیا اور تقریب کی مکمل کوریج کی ۔
پرائیوٹ ٹی وی چینل آج کی ٹیم پروگرام کی کوریج کے لئے اخیر وقت تک موجود رہے۔
اس پروگرام میں کثیر تعداد میں ادبا وشعرا اور ادبی تنظیموں کے عہدیداروں اور سماجی شخصیات نے شرکت کی۔
جن میں دوحہ قطر کے ممتاز بزنس مین حاجی گلزارخان اورکزئ،نامور صحافتي اور ادبي شخصيت محترم احمد بنګش ،خیبر ایجنسی زکواتہ کمیٹی کے چئیرمین حاجی عبدلودود،خیبر ایجنسی جمرود کے مشہور شعراء مقدر شاہ مقدر ،پروفیسر اسلم تاثیر اور محترم قیس افریدی ،اباسین ادبی ٹولنہ کے صدر ماصل خان اتش او جنرل سیکریٹری ہارون رشید خٹک،ریڈیو پاکستان کے لائیق زادہ لائیق ، ڈاکٹر بصیر ستوری ،نامور شاعر اور ادیب صابر شاہ صابر۔ریڈیو اشیا شارجہ یو اے ای کے نیاز افریدی،پروفیسر اسیر منگل، نامور شاعر اور ادیب الیاس الدین ٹلوال،پشاور ٹیلی ویژن کے پروڈیوسر فاروق مھمند اور پبلک ریلشنز افیسر صدیق اکبر ۔غوری خیل پشتو ادبی ٹولنہ کے صدر اختر حسین ننگیال اور انکے تمام ساتھی،ذاھد خان شیدا،فرمان علی شهاب ،
اور مشہور پشتو گلوکار ماسٹر رحیم گل نے خصوصی طور پر شرکت کی۔
فیروز افریدی
مدیر مسؤل
سہہ ماہی "پیخور انٹرنشنل پشتو" (پیشور)
پوسٹ بکس نمبر 925 یونیورسٹی اف پشاور
صوبہ سرحد پاکستان
|
_________________
ته لاړے خوند لاړو
تا ســـره ژوند لاړو
د ليکنې نېټه: شورو، فروري 17, 2010 7:34 am وروستي ځل فيروز افريدي په زيارت، فروري 18, 2010 9:31 am; باندې دا ليکنه تدوين کړه، ټولټال 5 ځله |
 |
|
|
 |
 |
 |
 |
 |
 |
 |
اقبال همدرد
مــــلــغـــلـــره


غړيتوب: 30 جون 2009 ليکنې: 1702 ځائې: کرک ، اسلام آباد پاکستان
|
نوره سم ښکاري خو برامجان که براجمان شي او پيخور که پيښور شي نو څنګه به وي؟
|
د ليکنې نېټه: شورو، فروري 17, 2010 7:48 am |
 |
|
|
 |
 |
 |
 |
 |
 |
 |
فيروز افريدي
Moderator

غړيتوب: 07 جولائ 2007 ليکنې: 3501 ځائې: قطر
|
افرين
يره تکړه شه نور به هم پکښې څه راووځي خو که تا لږه توره نوره وکړه.
مننه
|
_________________
ته لاړے خوند لاړو
تا ســـره ژوند لاړو
د ليکنې نېټه: شورو، فروري 17, 2010 7:56 am |
 |
|
|
 |
 |
 |
 |
 |
 |
 |
اقبال همدرد
مــــلــغـــلـــره


غړيتوب: 30 جون 2009 ليکنې: 1702 ځائې: کرک ، اسلام آباد پاکستان
|
دلته يو ټکي پکښي کم نۀ دي څۀ؟
وھاں وطن اور زبان کے حوالے سے منعقدہ ہر ایک تقریب ھاوس مي فل رھتی ھے
|
د ليکنې نېټه: شورو، فروري 17, 2010 9:01 am |
 |
|
|
 |
 |
 |
 |
 |
 |
 |
فيروز افريدي
Moderator

غړيتوب: 07 جولائ 2007 ليکنې: 3501 ځائې: قطر
|
دا خو ټول سواليه نشان دي...دا څه دي؟
|
_________________
ته لاړے خوند لاړو
تا ســـره ژوند لاړو
د ليکنې نېټه: شورو، فروري 17, 2010 9:50 am |
 |
|
|
 |
 |
 |
 |
 |
 |
 |
اقبال همدرد
مــــلــغـــلـــره


غړيتوب: 30 جون 2009 ليکنې: 1702 ځائې: کرک ، اسلام آباد پاکستان
|
دا سرۀ ليکل ماته سم نۀ ښکاري. کيدئ شي زۀ غلط وم ځکه سواليه نشان پسي ولګوم.
|
د ليکنې نېټه: شورو، فروري 17, 2010 10:10 am |
 |
|
|
 |
 |
 |
 |
 |
 |
 |
يوسفزئ
Moderator


غړيتوب: 08 دسمبر 2007 ليکنې: 545
|
Re: تقريب رونمائي درې مياشتيځه پېښور پښتو
په اقتباس کښي ځيني املائي غلطيانې مې په سور رنګ کړې او بريکټ کښې ورسره متبادل ټکي ليکلي .. غلطي له بښنه ..
| فيروز افريدي ليکلې: | ملګرو
ستاسو نه طمع لرم چي په دې ليکنه کښې د غلطيو نشاندهي وکړئ چې بيا مخکښې د چاپ د پاره ئې کوم اخبار ته هم واستوم.
مننه
پشاور سے چھپنے والی (والا) سہہ ماہی مجلہ ""پیخــــور""(پیشور)پشتو کا
پہلا پرچہ چھپ کر منظر عام پر ا(آ)گیا ہے۔
مجلے کی تقریب رونمائی مقامی ہوٹل ،سپرنگ نائیٹ ویلج یونیورسٹی روڈ پشاور میں بروز منگل 16 فروری 2010 کو دن 3 بجے منعقد ہوئی۔
جس میں کثیر تعداد میں پشتو اور اردو کے شعراء اور ادباء نے حصہ لیا۔
اس تقریب کی صدارت اردو اخبار رونامہ ایکسپریس کے کالم نگار ،اردو اور پشتو کے نامور شاعر اور ادیب جناب سعداللہ جان برق صاحب فرما رھے تھے ،جبکہ مھمان حصوصی کی نشست پر پشاور یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر محترم ڈاکٹر پروفیسر ہارون رشید صاحب تشریف فرما تھے۔
مھمانان اعزازی کے نشستوں پر بزرگ شاعر اور ادیب مرتضی شاہین،ڈاکٹر پروفیسر اقبال نسیم خٹک اور پشتو ڈیپارٹمنٹ کے پروفیسر اسلام گوہر، صاحبان تشریف فرما تھے۔
اسکے علاوہ پریزیڈیم میں مھمانان گرامی کے ساتھ رکھی گئ نشتوں پر میزبان تنظیم پشاور پشتو ادبی جرگہ کے نگران اور پشتو ڈیپارٹمنٹ کے سنئیر ریسرچ سکالر ڈاکٹر ہدایت اللہ نعیم اور صدر و مجلہ ""پیشور "" کے چیف ایڈیٹر فیروز افریدی بھی براجمان تھے۔
تقریب کی نظامت تنظیم کے جنرل سیکریٹری اور مجلے(مجلہ) پیشور کے ایڈیٹر محترم عارف اللہ اظھر صاحب نے کی ۔
تقریب کا باقاعدہ ا(آ)غاز تنظیم مز(ذ)کورہ کے سنئیر شاعر محترم ایوب سرحدی صاحب نےتلاوت کلام پاک اور نعت رسول مقبول سے کیا۔
ابتدائی کلمات مجلے(مجلہ) کے چیف ایڈیٹر فیروز افریدی نے ادا کئے اور مھمانان گرامی کا خصوصی شکریہ بار بار ادا کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ میں دیار غیر میں گزشتہ پچیس سالوں سے مقیم ھوں اور وھاں وطن اور زبان کے حوالے سے منعقدہ ہر ایک تقریب ھاوس فل رھتی ھے لیکن یہاں وطن میں کئی ایک تقاریب میں سامعین کی قلیل تعداد دیکھ کر مایوسی ہوئی تھی ،اور یہی خوف اس پروگرام کے حوالے سے بھی دل کو لگا ہوا تھا ، لیکن ا(آ)ج کی تقریب ماشاللہ ھاوس فل ھے اور مجھے انتھائی خوشی اور حوصلی(حوصلہ) افزائی ھو رہی ہے ۔
اور ھمیں امید ھے کہ مستقبل میں بھی اپ صاحبان ھماری اسی طرح حوصلی(حوصلہ) افزائی فرماتے رھیں گے
فیروز افریدی کے بعد ڈاکٹر ہدایت اللہ نعیم نے زبان اور زبان کے حوالے سے متعلقہ امور اور تکنیکی پہلووں پر سیر حاصل گفتگو کی۔
انہوں نے اکسویں صدی میں زبانوں سے متعلق ،ا(آ)ج کی (کے) دور کے جدید تقاضوں اور میڈیا کے توسط سے زبانوں کی قربت ،ا(آ)پس میں الفاظ کی(کے) تواصل اور تحلیل باھمی کی افادیت پر زور دیا اور اس حوالے سے درپیش مسائل کا حل تلاش کرنے میں ماہرین لسانیات کو ذمہ واری(ذمے داری) کا احساس دلایا۔
حکومتی اداروں پر کڑی تنقید کی ،اور انہیں زبان کی ترویج میں رکاوٹ کا باعث گردانا۔
انہوں نے کہا، کہ زبانوں کی ترویج یہی غیر سرکاری تنظیمیں کرتی رھتی ہے (هيں) جنہیں محدود وسائیل(وسائل) بھی دستیاب نہیں ۔
ڈاکٹر ہدایت اللہ نعیم نے سپرینگ (سپرنگ) نائیٹ ویلج کے مالک محترم خالد ایوب جو تاجر اتحاد یونیورسٹی روڈ کے چئیرمین بھی ہیں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا جو وقتا فوقتا ادیبوں اور شاعروں کی مالی معاونت کرتا رہتا ہے او جنہوں نے اج کے پروگرام کو بھی سپانسر کیا ہے۔
اسکے بعد بزرگ پشتو شاعر سفیراللہ ناشاد نے مجلے(مجلہ) کے حوالے سے منظوم خراج عقیدت پیش کی(کيا)۔
مجلے(مجلہ) پر تنقیدی مضامین اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے(کے کي ضرورت نهين) پشاور کے شعبہ پشتو کے چئرمین پروفیسر اباسین یوسفزئ اور ڈاکٹر پروفیسر اقبال نسیم خٹک نے پڑھے،جس پر بعد میں صاحب صدر نے بحث سميٹھتے ھوئے چند اعتراضات کے مثبت جواب بھی دئے۔
مجلے(مجلہ) پر روزنامہ اج (آج) کے کالم نگار اور ریڈیو پاکستان کے سابق سنئیر اہلکار محترم مشتاق شباب صاحب نے بھی گفتگو کی۔اور منتظمین اور مجلے(مجلہ) کے ادارے کو مبارکباد پیش کی۔
پشاور یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر پروفیسر ہارون رشید صاحب نے زبان کی اھمیت پر قابل قدر گفتگو کی۔اور اپنے دور میں اس حوالے سے کئ گئ (کئے گئے)اقدامات اور اس کے نتائیج(نتائج) پر بات کی۔
انہوں نے اس پر اشوب دور میں سیاسی او مفاہمتی عمل کو جلا بخشنے کے لئے ادبی اور صحافتی کاموں پر زور دیا اور اس کی اہمیت بیان کی۔
مہمان خصوصی نے تنظیم مزکورہ(مذکوره) کے اس حوالے سے کئے گئے کاموں کی دل کھول کر تعریف کی۔
اخر(آخر) میں صاحب صدر نے اس تقریب کی (کے) خدوخال پر سیر حاصل گفتکو کی اور پروگرام اور مجلے(مجلہ) کے حوالے سے مختلف اطراف سے اٹهائے گئے سوالات کے جوابات بھی دئے۔
صاحب صدر نے زبان اور ادب کے حوالے سے مختلف حوالوں سے (حذف هونا بهتر) دلائل دے کر سامعین تقریب سے خوب داد حاصل کی۔
صدر محفل نے منتظمین اور مجلے(مجلہ) کے ادارے کے کاوشوں کو سراہا۔
پروگرام کے اخیر(آخر) میں چند قراردادیں پیش ہوئیں اور اجمل خٹک کے لئے اجتماعی دعا کی گئ۔
تنظیم کے سنئیر نائب صدر اور مجلے(مجلہ) کے ایڈیٹر محترم نسیم خان نسیم صاحب نے ووٹ اف تھنکس ادا کیا اور پروگرام کے اختتام کا اعلان کرکے مہمانوں کو خورد ونوش کے لئے ھال کے دوسرے حصے میں مدعو کیا۔
پروگرام کے منتظم اعلٰی محترم دلاور خان وقار ، رضاخان افریدی اور میر عالم خان افریدی نے تقریب کی(کے) انتظامات میں بھر پور حصہ لیا اور تقریب کی مکمل کوریج کی ۔
پرائیوٹ ٹی وی چینل آج کی ٹیم پروگرام کی کوریج کے لئے اخیر(آخر) وقت تک موجود رہے۔
اس پروگرام میں کثیر تعداد میں ادبا وشعرا اور ادبی تنظیموں کے عہدیداروں اور سماجی شخصیات نے شرکت کی۔
جن میں دوحہ قطر کے ممتاز بزنس مین حاجی گلزارخان اورکزئ،نامور صحافتي اور ادبي شخصيت محترم احمد بنګش ،خیبر ایجنسی زکواتہ کمیٹی کے چئیرمین حاجی عبدلودود،خیبر ایجنسی جمرود کے مشہور شعراء مقدر شاہ مقدر ،پروفیسر اسلم تاثیر اور محترم قیس افریدی ،اباسین ادبی ٹولنہ کے صدر ماصل خان اتش او جنرل سیکریٹری ہارون رشید خٹک،ریڈیو پاکستان کے لائیق زادہ لائیق ، ڈاکٹر بصیر ستوری ،نامور شاعر اور ادیب صابر شاہ صابر۔ریڈیو اشیا شارجہ یو اے ای کے نیاز افریدی،پروفیسر اسیر منگل، نامور شاعر اور ادیب الیاس الدین ٹلوال،پشاور ٹیلی ویژن کے پروڈیوسر فاروق مھمند اور پبلک ریلشنز افیسر صدیق اکبر ۔غوری خیل پشتو ادبی ٹولنہ کے صدر اختر حسین ننگیال اور انکے تمام ساتھی،ذاھد(زاهد) خان شیدا،فرمان علی شهاب ،
اور مشہور پشتو فنکار ماسٹر رحیم گل نے خصوصی طور پر شرکت کی۔
فیروز افریدی
مدیر مسؤل
سہہ ماہی "پیخور انٹرنشنل پشتو" (پیشور)
پوسٹ بکس نمبر 925 یونیورسٹی اف پشاور
صوبہ سرحد پاکستان |
|
د ليکنې نېټه: شورو، فروري 17, 2010 2:45 pm |
 |
|
|
 |
 |
 |
 |
 |
 |
 |
فيروز افريدي
Moderator

غړيتوب: 07 جولائ 2007 ليکنې: 3501 ځائې: قطر
|
زنده باد اسماعيل جان
ما په يو نشت ليکلے وو خو دومره توان مې ونه لرلو چې سر دوباره مې چيک کړې وے.
ځکه چې درې ځل خو د بجلې په تلو رانه ړنګ شو.
او بيا په اخير کښې دومره تنګ شوم چې بس منډې ته تيار شو.
الله پاک د اجر عظيم درکړي.
يوه خبره کوم..د حوصلي نه ستا سو څه مراد دے؟
ما خو حوصله افزائي ليدلې دے يا حوصلې مې ليدلي دي خو د افزائي سره حوصلي څنګه راتللې شي.
مننه
|
_________________
ته لاړے خوند لاړو
تا ســـره ژوند لاړو
د ليکنې نېټه: شورو، فروري 17, 2010 4:31 pm |
 |
|
|
 |
 |
 |
 |
 |
 |
 |
يوسفزئ
Moderator


غړيتوب: 08 دسمبر 2007 ليکنې: 545
|
| فيروز افريدي ليکلې: | يوه خبره کوم..د حوصلي نه ستا سو څه مراد دے؟
ما خو حوصله افزائي ليدلې دے يا حوصلې مې ليدلي دي خو د افزائي سره حوصلي څنګه راتللې شي.
مننه |
هاهاهاها.. لالا داسې ښکاري چې نيټ ستړے کړے ئې !! دا "حوصلي افزائي" تاسو ليکلي ده ! ما نۀ !!! ما خو ورسره په (بريکټ) کښې داسې سمه کړه چې " حوصله افزائي" .
په شروع کښي ما اوئيل چې املائي غلطيانې مي په سور رنګ کړې او صحيح ټکې مې بيا په (بريکټ) کښي وليکلو ..!
بيا وګورئ :
| اقتباس: | | حوصلی(حوصلہ) افزائی فرماتے رھیں گے۔ |
حوصلی افزائي غلط دې او حوصله افزائي صحيح دې .
|
د ليکنې نېټه: شورو، فروري 17, 2010 4:57 pm |
 |
|
|
 |
 |
 |
 |
 |
 |
 |
خوګمن
مــــلــغـــلـــره

غړيتوب: 10 ستمبر 2009 ليکنې: 1104 ځائې: ډيــــــــر لــرې!
|
فيروزلالا! د تقريب رونمائي باره کښي د معلوماتو مو مننه.
هسې سوچ مې کؤلو چې د دې پروګرام خو به تاسو پټوان/فوټوګرافي هم کړي وي،
پکار ده چې هغه هم دلته ورکړۍ. څه مو خيال دے؟
|
د ليکنې نېټه: شورو، فروري 17, 2010 6:46 pm |
 |
|
|
 |
 |
 |
 |
وروستۍ ليکنې اوښايئ: ترتيبول:
|
 |
 |